Sunan Abi Dawood Hadith 2891 (سنن أبي داود)
[2891] إسنادہ ضعیف
ترمذی (2092) ابن ماجہ (2720)
ابن عقیل: ضعیف
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ،حَتَّی جِئْنَا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الْأَسْوَاقِ،فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ بِابْنَتَيْنِ لَہَا! فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! ہَاتَانِ بِنْتَا ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ, قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ،وَقَدِ اسْتَفَاءَ عَمُّہُمَا مَالَہُمَا وَمِيرَاثَہُمَا كُلَّہُ،فَلَمْ يَدَعْ لَہُمَا مَالًا إِلَّا أَخَذَہُ،فَمَا تَرَی يَا رَسُولَ اللہِ! فَوَاللہِ لَا تُنْكَحَانِ أَبَدًا إِلَّا وَلَہُمَا مَالٌ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: يَقْضِي اللہُ فِي ذَلِكَ،قَالَ: وَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ: يُوصِيكُمُ اللہُ فِي أَوْلَادِكُمْ...[النساء: 11], الْآيَةَ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ادْعُوا لِيَ الْمَرْأَةَ وَصَاحِبَہَا،فَقَالَ: لِعَمِّہِمَا: أَعْطِہِمَا الثُّلُثَيْنِ،وَأَعْطِ أُمَّہُمَا الثُّمُنَ،وَمَا بَقِيَ فَلَكَ. قَالَ أَبو دَاود: أَخْطَأَ بِشْرٌ فِيہِ إِنَّمَا ہُمَا ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ وَثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قُتِلَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ ایک انصاری عورت کے ہاں پہنچے جو مقام اسواف (حدود حرم مدینہ) میں رہائش پذیر تھی ‘ تو یہ عورت اپنی دو بیٹیوں کو لے کر آئی اور اس نے کہا: اے اﷲ کے رسول! یہ ثابت بن قیس کی بیٹیاں ہیں جو آپ کی معیت میں تھے اور احد میں شہید ہوئے۔ان کے چچا نے ان کا سارا مال اور ساری وراثت لے لی ہے اور ان کے لیے کوئی مال نہیں چھوڑا حتیٰ کہ سب پر قبضہ کر لیا ہے۔اے اﷲ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں؟ اﷲ کی قسم! (اس طرح تو) ان کا کبھی نکاح نہیں ہو گا جب تک کہ ان کے پاس کچھ مال نہ ہو۔پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ﷲ اس میں فیصلہ فرما دے گا۔‘‘ اور پھر سورۃ النساء کی آیت ((یوصیکم اللہ فی أولادکم)) نازل ہوئی۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’عورت کو اور اس کے دیور کو میرے پاس بلاؤ۔‘‘ تو آپ ﷺ نے لڑکیوں کے چچا سے کہا: ان دونوں لڑکیوں کی دو تہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو اور باقی تمہارا ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں بشر (بن مفضل) نے غلطی کی ہے۔یہ لڑکیاں سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیٹیاں تھیں۔جبکہ ثابت بن قیس کی شہادت یمامہ کے موقع پر ہوئی ہے۔