Sunan Abi Dawood Hadith 2899 (سنن أبي داود)
[2899]إسنادہ حسن
ولہ شاھد عند ابن حبان (1226 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (3052)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْہَوْزَنِيِّ عَبْدِ اللہِ بْنِ لُحَيٍّ عَنْ الْمِقْدَامِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيَّ وَرُبَّمَا قَالَ إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہُ أَعْقِلُ لَہُ وَأَرِثُہُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہُ يَعْقِلُ عَنْہُ وَيَرِثُہُ
سیدنا مقدام (مقدام بن معد یکرب) رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو کوئی قرضہ یا عیال و اطفال چھوڑ گیا تو وہ میرے ذمے ہیں،اور کبھی یوں بھی فرمایا،کہ اﷲ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں۔اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے۔اور جس کا کوئی وارث نہ ہو میں اس کا وارث ہوں ‘ اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا اور اس کا وارث بنوں گا ‘ اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی اور وارث نہ ہو ‘ وہ اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا اور اس کا وارث بھی بنے گا۔‘‘