Sunan Abi Dawood Hadith 2900 (سنن أبي داود)

[2900]حسن

انظر الحدیث السابق (2899) مشکوۃ المصابیح (3052)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ فِي آخَرِينَ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ بُدَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْہَوْزَنِيِّ عَنْ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنَا أَوْلَی بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ وَأَنَا مَوْلَی مَنْ لَا مَوْلَی لَہُ أَرِثُ مَالَہُ وَأَفُكُّ عَانَہُ وَالْخَالُ مَوْلَی مَنْ لَا مَوْلَی لَہُ يَرِثُ مَالَہُ وَيَفُكُّ عَانَہُ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاہُ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ عَائِذٍ عَنْ الْمِقْدَامِ وَرَوَاہُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَاشِدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ قَالَ أَبُو دَاوُد يَقُولُ الضَّيْعَةُ مَعْنَاہُ عِيَالٌ

سیدنا مقدام (مقدام بن معد یکرب) کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میں ہر مومن کے لیے اس کی اپنی ذات سے بھی قریب تر ہوں ‘ جو شخص قرض یا چھوٹی اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے ذمے ہے اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ‘ میں اس کا ولی ہوں جس کا کوئی ولی نہ ہو ‘ میں اس کے مال کا وارث بنوں گا اور اس کے قیدی چھڑاؤں گا۔اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا اور کوئی وارث نہ ہو ‘ وہ اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کا قیدی چھڑائے گا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ((الضیعۃ)) کے معنی ہیں عیال۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو زبیدی نے ((عن راشد بن سعد،عن ابن عائذ ،عن المقدام)) کی سند سے روایت کیا۔اور معاویہ بن صالح نے بواسطہ راشد اسے روایت کیا تو (((عن)) کے بجائے) ((سمعت المقدام)) یعنی میں نے مقدام سے سنا ہے ‘ کہا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میں ہر مومن کے لیے اس کی اپنی ذات سے بھی قریب تر ہوں ‘ جو شخص قرض یا چھوٹی اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے ذمے ہے اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ‘ میں اس کا ولی ہوں جس کا کوئی ولی نہ ہو ‘ میں اس کے مال کا وارث بنوں گا اور اس کے قیدی چھڑاؤں گا۔اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا اور کوئی وارث نہ ہو ‘ وہ اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کا قیدی چھڑائے گا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ((الضیعۃ)) کے معنی ہیں عیال۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو زبیدی نے ((عن راشد بن سعد،عن ابن عائذ ،عن المقدام)) کی سند سے روایت کیا۔اور معاویہ بن صالح نے بواسطہ راشد اسے روایت کیا تو (((عن)) کے بجائے) ((سمعت المقدام)) یعنی میں نے مقدام سے سنا ہے ‘ کہا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میں ہر مومن کے لیے اس کی اپنی ذات سے بھی قریب تر ہوں ‘ جو شخص قرض یا چھوٹی اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے ذمے ہے اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ‘ میں اس کا ولی ہوں جس کا کوئی ولی نہ ہو ‘ میں اس کے مال کا وارث بنوں گا اور اس کے قیدی چھڑاؤں گا۔اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا اور کوئی وارث نہ ہو ‘ وہ اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کا قیدی چھڑائے گا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ((الضیعۃ)) کے معنی ہیں عیال۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو زبیدی نے ((عن راشد بن سعد،عن ابن عائذ ،عن المقدام)) کی سند سے روایت کیا۔اور معاویہ بن صالح نے بواسطہ راشد اسے روایت کیا تو (((عن)) کے بجائے) ((سمعت المقدام)) یعنی میں نے مقدام سے سنا ہے ‘ کہا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میں ہر مومن کے لیے اس کی اپنی ذات سے بھی قریب تر ہوں ‘ جو شخص قرض یا چھوٹی اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے ذمے ہے اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ‘ میں اس کا ولی ہوں جس کا کوئی ولی نہ ہو ‘ میں اس کے مال کا وارث بنوں گا اور اس کے قیدی چھڑاؤں گا۔اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا اور کوئی وارث نہ ہو ‘ وہ اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کا قیدی چھڑائے گا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ((الضیعۃ)) کے معنی ہیں عیال۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو زبیدی نے ((عن راشد بن سعد،عن ابن عائذ ،عن المقدام)) کی سند سے روایت کیا۔اور معاویہ بن صالح نے بواسطہ راشد اسے روایت کیا تو (((عن)) کے بجائے) ((سمعت المقدام)) یعنی میں نے مقدام سے سنا ہے ‘ کہا۔