Sunan Abi Dawood Hadith 2928 (سنن أبي داود)
[2928]صحیح
صحیح بخاری (7138) صحیح مسلم (1829)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِہِ فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَی النَّاسِ رَاعٍ عَلَيْہِمْ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْہُمْ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَی أَہْلِ بَيْتِہِ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْہُمْ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَی بَيْتِ بَعْلِہَا وَوَلَدِہِ وَہِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْہُمْ وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَی مَالِ سَيِّدِہِ وَہُوَ مَسْئُولٌ عَنْہُ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِہِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’خبردار! تم میں سے ہر شخص محافظ اور ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت (جو کوئی اور جو کچھ اس کی ذمہ داری میں ہے) کے متعلق پوچھا جائے گا۔پس امیر،جو لوگوں کا محافظ ہے،اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا۔مرد اپنے گھر والوں کا محافظ ہے،اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا۔عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر محافظ ہے اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا،غلام اپنے مالک کے مال کا محافظ ہے،اس سے اس مال کے متعلق پوچھا جائے گا۔الغرض! تم سب کے سب راعی اور حاکم ہو اور تم سب سے تمہاری رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔‘‘