Sunan Abi Dawood Hadith 2946 (سنن أبي داود)
[2946]صحیح
صحیح بخاری (7174) صحیح مسلم (1832)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ لَفْظَہُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنْ الْأَزْدِ يُقَالُ لَہُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ قَالَ ابْنُ السَّرْحِ ابْنُ الْأُتْبِيَّةِ عَلَی الصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَقَالَ ہَذَا لَكُمْ وَہَذَا أُہْدِيَ لِي فَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللہَ وَأَثْنَی عَلَيْہِ وَقَالَ مَا بَالُ الْعَامِلِ نَبْعَثُہُ فَيَجِيءُ فَيَقُولُ ہَذَا لَكُمْ وَہَذَا أُہْدِيَ لِي أَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أُمِّہِ أَوْ أَبِيہِ فَيَنْظُرَ أَيُہْدَی لَہُ أَمْ لَا لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا جَاءَ بِہِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا فَلَہُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً فَلَہَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْہِ حَتَّی رَأَيْنَا عُفْرَةَ إِبِطَيْہِ ثُمَّ قَالَ اللہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ اللہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو صدقات پر عامل بنایا جس کا نام ابن اللتبیہ تھا۔ابن سرح نے اس کا نام ابن الاتبیہ ذکر کیا ہے۔جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا: یہ آپ کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔تو نبی کریم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے،اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا ’’عامل کو کیا ہوا ہے کہ ہم اسے بھیجتے ہیں پھر وہ آ کر کہتا ہے: یہ آپ کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھا رہا،پھر دیکھتا کہ اسے ہدیہ ملتا ہے یا نہیں؟ تم میں سے جو کوئی بھی اس قسم کی چیز لے گا وہ اسے قیامت کے دن لے کر حاضر ہو گا،اگر وہ اونٹ ہوا تو بلبلاتا آئے گا،اگر گائے ہوئی تو ڈکارتی ہوئی آئے گی یا بکری ہوئی تو ممیاتی ہوئی آئے گی۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند فرمائے حتیٰ کہ ہم نے آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے اللہ! میں نے یقیناً پہنچا دیا۔اے اللہ! میں نے یقیناً پہنچا دیا۔“