Sunan Abi Dawood Hadith 2948 (سنن أبي داود)

[2948]إسنادہ حسن

أخرجہ الترمذي (1333 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (3728، 3729)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَا مَرْيَمَ الْأَزْدِيَّ أَخْبَرَہُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مَا أَنْعَمَنَا بِكَ أَبَا فُلَانٍ وَہِيَ كَلِمَةٌ تَقُولُہَا الْعَرَبُ فَقُلْتُ حَدِيثًا سَمِعْتُہُ أُخْبِرُكَ بِہِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ مَنْ وَلَّاہُ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِہِمْ وَخَلَّتِہِمْ وَفَقْرِہِمْ احْتَجَبَ اللہُ عَنْہُ دُونَ حَاجَتِہِ وَخَلَّتِہِ وَفَقْرِہِ قَالَ فَجَعَلَ رَجُلًا عَلَی حَوَائِجِ النَّاسِ

جناب ابومریم ازدی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملنے گیا (جب کہ وہ شام میں حکمران تھے) تو انہوں نے کہا: اے ابوفلاں! کیا خوب آئے ہو (یعنی ہمیں تمہارے آنے سے خوشی ہوئی ہے) اور یہ جملہ ((ما أنعمنا بک)) عرب لوگ بطور استقبال و خوش آمدید بولا کرتے ہیں۔میں نے عرض کیا: ایک حدیث ہے جو میں آپ کو بتانے آیا ہوں۔میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا،آپ ﷺ فرماتے تھے ’’اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی اور ذمہ دار بنا دیا ہو،پھر وہ ان کی ضروریات،حاجت مندی اور فقیری میں ان سے ملنے سے گریز کرے (حجاب میں رہے) تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے حجاب فرما لے گا،جب کہ وہ ضرورت مند ہو گا،محتاج ہو گا اور فقیر ہو گا۔‘‘ چنانچہ انہوں نے ایک آدمی مقرر کر دیا جو لوگوں کی ضروریات اور حاجات ان تک پہنچاتا تھا۔