Sunan Abi Dawood Hadith 2966 (سنن أبي داود)

[2966] إسنادہ ضعیف

قال المنذري: ’’ھٰذا منقطع،الزہري لم یسمع من عمر‘‘ (عون المعبود 103/3)

انوار الصحیفہ ص 107

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ الزُّہْرِيِّ قَالَ قَالَ عُمَرُ وَمَا أَفَاءَ اللہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْہُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْہِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ قَالَ الزُّہْرِيُّ قَالَ عُمَرُ ہَذِہِ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ خَاصَّةً قُرَی عُرَيْنَةَ فَدَكَ وَكَذَا وَكَذَا مَا أَفَاءَ اللہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُرَی فَلِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَی وَالْيَتَامَی وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَلَلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِہِمْ فَاسْتَوْعَبَتْ ہَذِہِ الْآيَةُ النَّاسَ فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا لَہُ فِيہَا حَقٌّ قَالَ أَيُّوبُ أَوْ قَالَ حَظٌّ إِلَّا بَعْضَ مَنْ تَمْلِكُونَ مِنْ أَرِقَّائِكُمْ

جناب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سورۃ الحشر کی آیت ’’اور ان (لوگوں) کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی طرف پھیر دیا ہے اس کے لیے تم نے کوئی گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص ہے۔اس میں عرینہ کی بستیاں ‘ فدک وغیرہ وغیرہ ہیں۔(اس کے بعد ساتویں آیت میں ہے) ’’لڑے بھڑے بغیر بستیوں والوں کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے تصرف میں دیا ہے وہ اللہ ‘ رسول ‘ قرابت داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔‘‘ (اور آگے آٹھویں آیت میں ہے کہ یہ مال فے) ’’ان فقراء مہاجرین کا حق ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکال باہر کئے گئے۔“ (اور اس کے بعد یہ بیان ہوا ہے کہ اس مال فے میں ان لوگوں کا بھی حق ہے) جنہوں نے ان (مہاجرین کی آمد) سے پہلے (مدینے میں) ٹھکانہ بنا لیا تھا اور ایمان قبول کر لیا تھا۔(انصار مدینہ) اور (پھر دسویں آیت میں ہے۔) ’’اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے‘‘ یہ (آخری) آیت تمام لوگوں سے متعلق ہے۔اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی نہیں بچتا مگر اس کا اس فے میں حصہ ہے۔ایوب نے لفظ عربی ((حق /عربی )) کی بجائے ((حظ)) کہا۔سوائے تمہارے کچھ ایسے لوگوں کے جن کی گردنوں کے تم مالک ہو۔(غلام جو آزاد نہیں ہوئے اور ان کی پوری ذمہ داری ان کے آقاؤں پر ہے۔)