Sunan Abi Dawood Hadith 2975 (سنن أبي داود)

[2975] إسنادہ ضعیف

الرجل مجھول وحدیث البخاري (7305) ومسلم (1757) یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 108

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ حَدِيثًا مِنْ رَجُلٍ فَأَعْجَبَنِي فَقُلْتُ اكْتُبْہُ لِي فَأَتَی بِہِ مَكْتُوبًا مُذَبَّرًا دَخَلَ الْعَبَّاسُ وَعَلِيٌّ عَلَی عُمَرَ وَعِنْدَہُ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَسَعْدٌ وَہُمَا يَخْتَصِمَانِ فَقَالَ عُمَرُ لِطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعْدٍ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ كُلُّ مَالِ النَّبِيِّ صَدَقَةٌ إِلَّا مَا أَطْعَمَہُ أَہْلَہُ وَكَسَاہُمْ إِنَّا لَا نُورَثُ قَالُوا بَلَی قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُنْفِقُ مِنْ مَالِہِ عَلَی أَہْلِہِ وَيَتَصَدَّقُ بِفَضْلِہِ ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَوَلِيَہَا أَبُو بَكْرٍ سَنَتَيْنِ فَكَانَ يَصْنَعُ الَّذِي كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللہِ ﷺ ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ

ابوالبختری کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے حدیث سنی جو مجھے پسند آئی ‘ میں نے کہا کہ یہ مجھے لکھ دو ‘ تو اس نے یہ مجھے صاف صاف لکھ دی۔کہ سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ طلحہ،زبیر،عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ان دونوں کا آپس میں جھگڑا تھا۔تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلحہ،زبیر،عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’نبی کا سب مال صدقہ ہوتا ہے ‘ سوائے اس کے جو وہ اپنے گھر والوں کو کھلا دیں یا پہنا دیں۔ہم لوگ اپنا کوئی وارث نہیں بناتے؟‘‘ ان سب نے کہا کہ ہاں۔تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے اور بقیہ صدقہ کر دیا کرتے تھے۔پھر رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال تک اس جائیداد کے متولی رہے اور وہی کچھ کرتے رہے جو رسول اللہ ﷺ کرتے تھے۔پھر (ابوالبختری) نے مالک بن اوس کی حدیث سے کچھ بیان کیا۔ ابوالبختری کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے حدیث سنی جو مجھے پسند آئی ‘ میں نے کہا کہ یہ مجھے لکھ دو ‘ تو اس نے یہ مجھے صاف صاف لکھ دی۔کہ سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ طلحہ،زبیر،عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ان دونوں کا آپس میں جھگڑا تھا۔تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلحہ،زبیر،عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’نبی کا سب مال صدقہ ہوتا ہے ‘ سوائے اس کے جو وہ اپنے گھر والوں کو کھلا دیں یا پہنا دیں۔ہم لوگ اپنا کوئی وارث نہیں بناتے؟‘‘ ان سب نے کہا کہ ہاں۔تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے اور بقیہ صدقہ کر دیا کرتے تھے۔پھر رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال تک اس جائیداد کے متولی رہے اور وہی کچھ کرتے رہے جو رسول اللہ ﷺ کرتے تھے۔پھر (ابوالبختری) نے مالک بن اوس کی حدیث سے کچھ بیان کیا۔