Sunan Abi Dawood Hadith 3008 (سنن أبي داود)

[3008]صحیح

صحیح مسلم (1551)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَہْرِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَہُودُ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَنْ يُقِرَّہُمْ عَلَی أَنْ يَعْمَلُوا عَلَی النِّصْفِ مِمَّا خَرَجَ مِنْہَا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أُقِرُّكُمْ فِيہَا عَلَی ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَكَانُوا عَلَی ذَلِكَ وَكَانَ التَّمْرُ يُقْسَمُ عَلَی السُّہْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ وَيَأْخُذُ رَسُولُ اللہِ ﷺ الْخُمُسَ وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَطْعَمَ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِہِ مِنْ الْخُمُسِ مِائَةَ وَسْقٍ تَمْرًا وَعِشْرِينَ وَسْقًا شَعِيرًا فَلَمَّا أَرَادَ عُمَرُ إِخْرَاجَ الْيَہُودِ أَرْسَلَ إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ لَہُنَّ مَنْ أَحَبَّ مِنْكُنَّ أَنْ أَقْسِمَ لَہَا نَخْلًا بِخَرْصِہَا مِائَةَ وَسْقٍ فَيَكُونَ لَہَا أَصْلُہَا وَأَرْضُہَا وَمَاؤُہَا وَمِنْ الزَّرْعِ مَزْرَعَةَ خَرْصٍ عِشْرِينَ وَسْقًا فَعَلْنَا وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ نَعْزِلَ الَّذِي لَہَا فِي الْخُمُسِ كَمَا ہُوَ فَعَلْنَا

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہو گیا تو یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ہمیں یہیں رہنے دیا جائے۔ہم محنت کریں گے اور جو آمدنی ہو گی اس سے آدھی آپ کو ادا کریں گے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میں تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیتا ہوں کہ جب تک ہم چاہیں گے۔‘‘ چنانچہ وہ اسی کے مطابق وہاں رہے۔اور خیبر سے حاصل ہونے والی آدھی کھجور کئی حصوں پر تقسیم کی جاتی تھی اور رسول اللہ ﷺ پانچواں حصہ لیا کرتے تھے۔اور رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں میں سے ہر بیوی کو سو وسق کھجور اور بیس وسق جو عنایت فرمایا کرتے تھے۔جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو نکالنے کا ارادہ کیا تو ازواج نبی کریم ﷺ سے کہلا بھیجا کہ آپ میں سے جس کا جی چاہے میں اسے اتنے درخت دئیے دیتا ہوں جس سے سو وسق کھجور حاصل ہو اور وہ درخت ‘ زمین اور پانی اسی کا ہو گا۔اور ایسے ہی اس قدر زمین دئیے دیتا ہوں جس سے بیس وسق جو حاصل ہوں۔اور جو پسند کرے ہم خمس میں سے اس کا حصہ حسب سابق ادا کرتے رہیں گے۔