Sunan Abi Dawood Hadith 3016 (سنن أبي داود)
[3016] إسنادہ ضعیف
ابن إسحاق عنعن والخبر مرسل
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَجْلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ الزُّہْرِيِّ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَبَعْضِ وَلَدِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالُوا بَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنْ أَہْلِ خَيْبَرَ تَحَصَّنُوا فَسَأَلُوا رَسُولَ اللہِ ﷺ أَنْ يَحْقِنَ دِمَاءَہُمْ وَيُسَيِّرَہُمْ فَفَعَلَ فَسَمِعَ بِذَلِكَ أَہْلُ فَدَكَ فَنَزَلُوا عَلَی مِثْلِ ذَلِكَ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ خَاصَّةً لِأَنَّہُ لَمْ يُوجَفْ عَلَيْہَا بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ
جناب زہری اور عبداللہ بن ابی بکر سے اور محمد بن مسلمہ کے بعض صاحبزادگان سے روایت ہے کہ اہل خیبر کے کچھ لوگ بچ گئے تو وہ قلعہ بند ہو گئے۔اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ہمارے خون معاف کر دئیے جائیں (یعنی قتل نہ کیا جائے) اور ہمیں یہاں سے نکل جانے کا موقع دیا جائے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے قبول فرما لیا۔اہل فدک نہ یہ معاملہ سنا تو وہ بھی اس بات پر راضی ہو گئے۔چنانچہ یہ قلعے اور زمینیں رسول اللہ ﷺ کے لیے مخصوص رہیں ‘ کیونکہ ان پر کوئی گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے گئے تھے (جنگ نہیں ہوئی تھی)۔