Sunan Abi Dawood Hadith 3049 (سنن أبي داود)
[3049] إسنادہ ضعیف
عطاء اختلط
وانظر حدیث (3046)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عُمَيْرٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ جَدِّہِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ وَعَلَّمَنِي كَيْفَ آخُذُ الصَّدَقَةَ مِنْ قَوْمِي مِمَّنْ أَسْلَمَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْہِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ كُلُّ مَا عَلَّمْتَنِي قَدْ حَفِظْتُہُ إِلَّا الصَّدَقَةَ أَفَأُعَشِّرُہُمْ قَالَ لَا إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَی النَّصَارَی وَالْيَہُودِ
حرب بن عبیداللہ بن عمیر ثقفی اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو کہ بنو تغلب سے تھے،انہوں نے کہا: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور اسلام قبول کیا،آپ ﷺ نے مجھے اسلام کے متعلق سمجھایا،اور مجھے بتایا کہ میں اپنی قوم کے مسلمانوں سے کس طرح سے صدقہ وصول کیا کروں۔پھر میں آپ ﷺ کے پاس دوبارہ آیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے جو کچھ تعلیم فرمائی تھی میں نے اسے یاد کر لیا ہے سوائے صدقہ کے،تو کیا میں ان سے دسواں حصہ لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں،دسواں حصہ تو عیسائیوں اور یہودیوں پر ہوتا ہے۔‘‘