Sunan Abi Dawood Hadith 3050 (سنن أبي داود)

[3050] إسنادہ ضعیف

أشعث بن شعبۃ ضعیف

ضعفہ الجمہور

ولم یثبت توثیقہ عن أبي داود رحمہ اللہ وقال أبو زرعۃ الرازي: لین (الجرح و التعدیل 273/2)

انوار الصحیفہ ص 112

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ سَمِعْتُ حَكِيمَ بْنَ عُمَيْرٍ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ نَزَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ خَيْبَرَ وَمَعَہُ مَنْ مَعَہُ مِنْ أَصْحَابِہِ وَكَانَ صَاحِبُ خَيْبَرَ رَجُلًا مَارِدًا مُنْكَرًا فَأَقْبَلَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَلَكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا حُمُرَنَا وَتَأْكُلُوا ثَمَرَنَا وَتَضْرِبُوا نِسَاءَنَا فَغَضِبَ يَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ وَقَالَ يَا ابْنَ عَوْفٍ ارْكَبْ فَرَسَكَ ثُمَّ نَادِ أَلَا إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِمُؤْمِنٍ وَأَنْ اجْتَمِعُوا لِلصَّلَاةِ قَالَ فَاجْتَمَعُوا ثُمَّ صَلَّی بِہِمْ النَّبِيُّ ﷺ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ مُتَّكِئًا عَلَی أَرِيكَتِہِ قَدْ يَظُنُّ أَنَّ اللہَ لَمْ يُحَرِّمْ شَيْئًا إِلَّا مَا فِي ہَذَا الْقُرْآنِ أَلَا وَإِنِّي وَاللہِ قَدْ وَعَظْتُ وَأَمَرْتُ وَنَہَيْتُ عَنْ أَشْيَاءَ إِنَّہَا لَمِثْلُ الْقُرْآنِ أَوْ أَكْثَرُ وَإِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُحِلَّ لَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتَ أَہْلِ الْكِتَابِ إِلَّا بِإِذْنٍ وَلَا ضَرْبَ نِسَائِہِمْ وَلَا أَكْلَ ثِمَارِہِمْ إِذَا أَعْطَوْكُمْ الَّذِي عَلَيْہِمْ

سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ خیبر میں اترے اور آپ ﷺ کے ساتھ دیگر صحابہ بھی تھے۔خیبر کا رئیس ایک سرکش (اور) ناپسندیدہ آدمی تھا۔وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! کیا تمہارے لیے جائز ہے کہ ہمارے گدھوں کو ذبح کر ڈالو،ہمارے پھل کھا جاؤ اور ہماری عورتوں کو پیٹو؟ تو نبی کریم ﷺ (یہ سن کر) غصے ہوئے اور فرمایا ’’اے ابن عوف! اپنے گھوڑے پر سوار ہو اور منادی کر دو کہ خبردار! جنت صرف صاحب ایمان ہی کے لیے حلال ہے اور یہ کہ نماز کے لیے اکٹھے ہو جاؤ۔‘‘ چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہو گئے تو آپ ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی،پھر کھڑے ہوئے اور فرمایا ’’کیا تم میں سے کوئی اپنے تخت پر تکیے پر ٹیک لگائے یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف وہی کچھ حرام ٹھہرایا ہے جو اس قرآن میں ہے۔خبردار! بیشک میں نے اللہ کی قسم! خوب وعظ و نصیحت کی ہے،کئی باتوں کا حکم دیا ہے اور کئی سے منع کیا ہے اور میری بات بلاشبہ قرآن ہی کی مثل ہے یا اس سے بڑھ کر (مفصل) ہے،اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال نہیں کیا کہ بلا اجازت اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہو جاؤ یا ان کی عورتوں کو مارو یا ان کے پھل کھا جاؤ،جبکہ وہ تمہیں اپنے ذمے کا واجب ادا کر رہے ہوں۔‘‘