Sunan Abi Dawood Hadith 3051 (سنن أبي داود)

[3051] إسنادہ ضعیف

رجل من ثقیف: مجہول،وإلیہ أشار المنذري (انظر عون المعبود 136/3)

انوار الصحیفہ ص 112

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ہِلَالٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُہَيْنَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَعَلَّكُمْ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا فَتَظْہَرُونَ عَلَيْہِمْ فَيَتَّقُونَكُمْ بِأَمْوَالِہِمْ دُونَ أَنْفُسِہِمْ وَأَبْنَائِہِمْ قَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِہِ فَيُصَالِحُونَكُمْ عَلَی صُلْحٍ ثُمَّ اتَّفَقَا فَلَا تُصِيبُوا مِنْہُمْ شَيْئًا فَوْقَ ذَلِكَ فَإِنَّہُ لَا يَصْلُحُ لَكُمْ

جہینہ (قبیلے) کے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’شاید کہ تم ایک قوم سے قتال کرو گے اور ان پر غالب آ جاؤ گے ‘ تو وہ اپنی جانیں اور اپنی اولادیں بچانے کے لیے اپنے مال پیش کریں گے۔سعید (سعید بن منصور) نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ بیان کیا: ’’پھر وہ تم سے مصالحت کر لیں گے۔‘‘ پھر دونوں راوی حدیث کے اگلے الفاظ بیان کرنے میں متفق ہیں ’’تو تم اس سے زیادہ لینے کوشش نہ کرنا کیونکہ یہ تمہارے لیے جائز نہ ہو گا۔‘‘