Sunan Abi Dawood Hadith 3064 (سنن أبي داود)

[3064]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ الْمَعْنَی وَاحِدٌ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَی بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيَّ حَدَّثَہُمْ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ عَنْ شُمَيْرٍ قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ ابْنِ عَبْدِ الْمَدَانِ عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّہُ وَفَدَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَاسْتَقْطَعَہُ الْمِلْحَ قَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ الَّذِي بِمَأْرِبَ فَقَطَعَہُ لَہُ فَلَمَّا أَنْ وَلَّی قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْمَجْلِسِ أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَہُ إِنَّمَا قَطَعْتَ لَہُ الْمَاءَ الْعِدَّ قَالَ فَانْتَزَعَ مِنْہُ قَالَ وَسَأَلَہُ عَمَّا يُحْمَی مِنْ الْأَرَاكِ قَالَ مَا لَمْ تَنَلْہُ خِفَافٌ وَقَالَ ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ أَخْفَافُ الْإِبِلِ حَدَّثَنِي ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ مَا لَمْ تَنَلْہُ أَخْفَافُ الْإِبِلِ يَعْنِي أَنَّ الْإِبِلَ تَأْكُلُ مُنْتَہَی رُءُوسِہَا وَيُحْمَی مَا فَوْقَہُ

سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک وفد لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے نمک کی کان بطور جاگیر طلب کی جو آپ ﷺ نے دے دی۔ابن متوکل کہتے ہیں وہ کان مقام مارب پر تھی۔جب میں نے پشت پھیری تو مجلس میں سے ایک آدمی نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے اسے کیا دے دیا ہے ‘ آپ نے اسے نہ ختم ہونے والا دائمی پانی دے دیا ہے۔چنانچہ آپ ﷺ نے اسے واپس لے لیا۔پھر میں نے سوال کیا کہ پیلو کے کون سے درخت گھیرے جائیں؟ (اپنے قبضے میں لیے جا سکتے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا ’’وہ جنہیں اونٹوں کے پاؤں نہ پہنچتے ہوں۔‘‘ (آبادی سے کافی دور ہوں)