Sunan Abi Dawood Hadith 3092 (سنن أبي داود)
[3092]حسن✷
أخرجہ عبد بن حمید (1594) وللحدیث طرق عند الھیثمي في مجمع (2/ 307) وغیرہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ بَكَّارٍ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ قَالَتْ عَادَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَنَا مَرِيضَةٌ فَقَالَ أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْعَلَاءِ فَإِنَّ مَرَضَ الْمُسْلِمِ يُذْہِبُ اللہُ بِہِ خَطَايَاہُ كَمَا تُذْہِبُ النَّارُ خَبَثَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّةِ
سیدہ ام علاء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں بیمار ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا ’’اے ام علاء! تمہیں خوشخبری ہو ‘ بلاشبہ مسلمان کی بیماری کے ذریعے سے اﷲ تعالیٰ اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے جیسے کہ آگ سونے اور چاندی کا کھوٹ نکال دیتی ہے۔‘‘
✷قال معاذ علی زئی: رواہ الطبراني في المعجم الکبیر (10/186 ح 10406) وسندہ حسن وھو یغني عنہ