Sunan Abi Dawood Hadith 3093 (سنن أبي داود)

[3093]إسنادہ حسن

أبو عامر الخزاز صالح بن رستم: حسن الحدیث، وأصلہ متفق علیہ بالإختصار البخاري (4939) ومسلم (2876)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَہَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَالَ أَيَّةُ آيَةٍ يَا عَائِشَةُ قَالَتْ قَوْلُ اللہِ تَعَالَی مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِہِ قَالَ أَمَا عَلِمْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ الْمُؤْمِنَ تُصِيبُہُ النَّكْبَةُ أَوْ الشَّوْكَةُ فَيُكَافَأُ بِأَسْوَإِ عَمَلِہِ وَمَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ قَالَتْ أَلَيْسَ اللہُ يَقُولُ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا قَالَ ذَاكُمْ الْعَرْضُ يَا عَائِشَةُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَہَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اﷲ کے رسول! میں خوب جانتی ہوں کہ قرآن مجید میں سب سے سخت آیت کون سی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کون سی آیت ہے وہ؟ اے عائشہ!‘‘ کہتی ہیں ‘ میں نے کہا: اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان ((من یعمل سوءا یجز بہ)) ’’جس نے بھی کوئی برائی کی ‘ اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ مومن کو جو کوئی پریشانی آتی ہے یا کانٹا بھی چبھ جاتا ہے تو اسے اس کے کسی سب سے برے عمل کا بدلہ دے دیا جاتا ہے اور جس کا حساب لیا گیا تو اسے عذاب ہوا۔‘‘ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: تو کیا اﷲ نے انہیں فرمایا ((فسوف یحاسب حسابا یسیرا)) ’’عنقریب بندے کا حساب لیا جائے گا آسان حساب؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس سے مراد اﷲ تعالیٰ کے سامنے حاضری ہے ‘ اے عائشہ! جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گئی ‘ اسے عذاب ہوا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ابن بشار کے لفظ ہیں۔اور اس کی سند میں (((عن)) کی بجائے) ((حدثنا ابن أبی ملیکۃ)) ہے۔