Sunan Abi Dawood Hadith 3107 (سنن أبي داود)
[3107]إسنادہ حسن
عبد اللہ بن وہب المصري صرح بالسماع عند ابن حبان (715) مشکوۃ المصابیح (1556)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا فَلْيَقُلْ اللہُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَی جَنَازَةٍ قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ إِلَی صَلَاةٍ
سیدنا (عبداللہ) بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’جب کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے ‘ تو چاہیئے کہ یوں کہے ((اللہم اشف عبدک،ینکأ لک عدوا،أو یمشی لک إلی جنازۃ)) ’’اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء عنایت فرما ‘ یہ تیری راہ میں کسی دشمن کو زخمی کرے گا یا تیری رضا کے لیے کسی جنازہ میں شریک ہو گا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن السرح (احمد بن عمرو بن عبداللہ) نے ((إلی جنازۃ)) کے بجائے ((إلی صلاۃ)) روایت کیا ہے۔یعنی یہ بندہ نماز کیلئے جائے گا۔