Sunan Abi Dawood Hadith 3124 (سنن أبي داود)

[3124]صحیح

صحیح بخاری (1252) صحیح مسلم (926)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَی نَبِيُّ اللہِ ﷺ عَلَی امْرَأَةٍ تَبْكِي عَلَی صَبِيٍّ لَہَا فَقَالَ لَہَا اتَّقِي اللہَ وَاصْبِرِي فَقَالَتْ وَمَا تُبَالِي أَنْتَ بِمُصِيبَتِي فَقِيلَ لَہَا ہَذَا النَّبِيُّ ﷺ فَأَتَتْہُ فَلَمْ تَجِدْ عَلَی بَابِہِ بَوَّابِينَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللہِ لَمْ أَعْرِفْكَ فَقَالَ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَی أَوْ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے پر رو رہی تھی آپ ﷺ نے اس سے فرمایا ’’اللہ کا تقویٰ اختیار کر اور صبر کر۔‘‘ وہ بولی تمہیں میری مصیبت کی کیا پروا؟ اس عورت سے کہا گیا: یہ تو نبی ﷺ ہیں۔تب وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ‘ اس نے آپ ﷺ کے دروازے پر چوکیدار نہ پائے۔اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا ‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’صبر وہی ہوتا ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو۔‘‘