Sunan Abi Dawood Hadith 3125 (سنن أبي داود)

[3125]صحیح

صحیح بخاری (1284) صحیح مسلم (923)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ ابْنَةً لِرَسُولِ اللہِ ﷺ أَرْسَلَتْ إِلَيْہِ وَأَنَا مَعَہُ وَسَعْدٌ وَأَحْسَبُ أُبَيًّا أَنَّ ابْنِي أَوْ بِنْتِي قَدْ حُضِرَ فَاشْہَدْنَا فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ فَقَالَ قُلْ لِلَّہِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَی وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَہُ إِلَی أَجَلٍ فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْہِ فَأَتَاہَا فَوُضِعَ الصَّبِيُّ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَنَفْسُہُ تَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ مَا ہَذَا قَالَ إِنَّہَا رَحْمَةٌ وَضَعَہَا اللہُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللہُ مِنْ عِبَادِہِ الرُّحَمَاءَ

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک صاحبزادی نے آپ ﷺ کو پیغام بھیجا ‘ جبکہ میں،سعد بن عبادہ اور غالباً ابی بھی آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ میرا بیٹا یا بیٹی نزع کی کیفیت میں ہے تو آپ ﷺ تشریف لے آئیں۔آپ ﷺ نے جواب میں سلام کہلوایا اور فرمایا ’’اسے کہو کہ اللہ جو لے لے اور جو عنایت فرما دے سب اسی کا ہے اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک وقت مقرر ہے۔‘‘ اس نے آپ ﷺ کو دوبارہ قسم دے کر بلوایا تو آپ ﷺ تشریف لے گئے۔پھر بچے کو رسول اللہ ﷺ کی گود میں دے دیا گیا جب کہ وہ دم توڑ رہا تھا۔پس رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں بہہ پڑیں۔سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ یہ رحمت ہے ‘ اللہ جن کے متعلق چاہتا ہے ان کے دلوں میں اسے ڈال دیتا ہے اور اللہ اپنے انہی بندوں پر رحمت فرماتا ہے جو رحم دل ہوں۔‘‘