Sunan Abi Dawood Hadith 3138 (سنن أبي داود)

[3138]صحیح

صحیح بخاری (1343)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْہَبٍ أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَہُمْ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ ابْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللہِ،أَخْبَرَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَی أُحُدٍ،وَيَقُولُ: أَيُّہُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟،فَإِذَا أُشِيرَ لَہُ إِلَی أَحَدِہِمَا،قَدَّمَہُ فِي اللَّحْدِ،وَقَالَ: أَنَا شَہِيدٌ عَلَی ہَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. وَأَمَرَ بِدَفْنِہِمْ،بِدِمَائِہِمْ،وَلَمْ يُغَسَّلُوا.

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ شہدائے احد میں سے دو دو آدمیوں کو اکٹھا کرتے اور دریافت فرماتے ’’ان میں قرآن کسے زیادہ یاد ہے؟‘‘ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا،تو آپ اسے لحد میں آگے رکھتے۔اور آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں قیامت کے روز ان کے لیے گواہ ہوں گا۔‘‘ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ انہیں ان کے خونوں ہی میں دفن کیا جائے اور انہیں غسل نہیں دیا۔