Sunan Abi Dawood Hadith 3141 (سنن أبي داود)
[3141]إسنادہ حسن
أخرجہ ابن ماجہ (1464 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (5948)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ عَبَّادٍ عَنْ أَبِيہِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ لَمَّا أَرَادُوا غَسْلَ النَّبِيِّ ﷺ قَالُوا وَاللہِ مَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللہِ ﷺ مِنْ ثِيَابِہِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ نَغْسِلُہُ وَعَلَيْہِ ثِيَابُہُ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَی اللہُ عَلَيْہِمْ النَّوْمَ حَتَّی مَا مِنْہُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَذَقْنُہُ فِي صَدْرِہِ ثُمَّ كَلَّمَہُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لَا يَدْرُونَ مَنْ ہُوَ أَنْ اغْسِلُوا النَّبِيَّ ﷺ وَعَلَيْہِ ثِيَابُہُ فَقَامُوا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَغَسَلُوہُ وَعَلَيْہِ قَمِيصُہُ يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيُدَلِّكُونَہُ بِالْقَمِيصِ دُونَ أَيْدِيہِمْ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَلَہُ إِلَّا نِسَاؤُہُ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب نبی کریم ﷺ کو غسل دینا چاہا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں معلوم نہیں کہ آیا ہم رسول اللہ ﷺ کے کپڑے اتاریں جیسے کہ ہم اپنی میتوں کے اتار دیتے ہیں یا انہیں ان کے کپڑوں سمیت ہی غسل دیں۔پس جب ان کا اس بارے میں اختلاف ہوا،تو اللہ نے ان پر نیند طاری کر دی،ان میں سے کوئی بھی نہ بچا مگر اس کی ٹھوڑی اس کے سینے سے جا لگی۔پھر گھر کی جانب سے ایک بات کرنے والے نے بات کی،کسی کو خبر نہیں کہ وہ کون تھا کہ نبی کریم ﷺ کو ان کے کپڑوں سمیت ہی غسل دو۔چنانچہ وہ اٹھے اور رسول اللہ ﷺ کو آپ کی قمیص سمیت غسل دیا۔وہ قمیص کے اوپر ہی سے پانی ڈالتے جاتے تھے اور آپ کی قمیص ہی سے آپ کو ملتے جاتے تھے بغیر اس کے کہ آپ کے جسم کو ان کے ہاتھ لیگیں۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: اگر مجھے اس معاملے کا پہلے علم ہو جاتا جس کا بعد میں ہوا ہے،تو آپ کو آپ کی ازواج ہی غسل دیتیں۔