Sunan Abi Dawood Hadith 3142 (سنن أبي داود)

[3142]صحیح

صحیح بخاری (1253) صحیح مسلم (939)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ ح،وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ الْمَعْنَی،عَنْ أَيُّوبَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ،عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ،قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُہُ،فَقَالَ: اغْسِلْنَہَا ثَلَاثًا،أَوْ خَمْسًا،أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ-إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ-بِمَاءٍ وَسِدْرٍ،وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا،أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ،فَإِذَا فَرَغْتُنَّ،فَآذِنَّنِي. فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاہُ،فَأَعْطَانَا حَقْوَہُ،فَقَالَ: أَشْعِرْنَہَا إِيَّاہُ،قَالَ: عَنْ مَالِكٍ يَعْنِي: إِزَارَہُ. وَلَمْ يَقُلْ مُسَدَّدٌ دَخَلَ عَلَيْنَا.

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ کی صاحبزادی کی وفات ہو گئی تھی۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے تین یا پانچ بار غسل دو یا اس سے بھی زیادہ اگر ضرورت محسوس کرو،ایسے پانی کے ساتھ جس میں بیری کے پتے ملے ہوں،اور آخری بار میں کچھ کافور بھی ملا لینا،اور جب تم غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر دینا۔‘‘ چنانچہ جب ہم فارغ ہو گئے تو آپ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا ’’اسے اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں امام مالک رحمہ اللہ سے ((حقو)) کی بجائے ((إزار)) کا لفظ مروی ہے۔(اور معنی ایک ہی ہے یعنی تہبند) اور مسدد نے ((دخل علینا)) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔