Sunan Abi Dawood Hadith 3176 (سنن أبي داود)
[3176] إسنادہ ضعیف
ترمذی (1020) ابن ماجہ (1545)
قال الترمذي:’’غریب،وبشربن رافع لیس بالقوي فی الحدیث‘‘وعبد اللہ بن سلیمان بن جنادۃ ضعیف (تقریب التہذیب:3369)
وأبوہ منکر الحدیث (تقریب: 2542)
وللحدیث شواھد ضعیفۃوحدیث مسلم (962) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ بَہْرَامَ الْمَدَائِنِيُّ أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَقُومُ فِي الْجَنَازَةِ حَتَّی تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَمَرَّ بِہِ حَبْرٌ مِنْ الْيَہُودِ فَقَالَ ہَكَذَا نَفْعَلُ فَجَلَسَ النَّبِيُّ ﷺ وَقَالَ اجْلِسُوا خَالِفُوہُمْ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنازے کے لیے کھڑے رہتے تھے حتیٰ کہ اسے لحد میں اتار دیا جاتا،ایک یہودی عالم کا آپ ﷺ کے پاس سے گزر ہوا تو اس نے کہا: ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں۔تو نبی کریم ﷺ بیٹھ گئے اور فرمایا ’’بیٹھ جاؤ۔ان کی مخالفت کرو۔‘‘