Sunan Abi Dawood Hadith 3194 (سنن أبي داود)

[3194]إسنادہ حسن

أخرجہ الترمذي (1034 وسندہ حسن) وابن ماجہ (1034 وسندہ حسن) وقول نافع أبي غالب: ’’فسألت عن صنیع أنس … إلخ‘‘ ضعیف لجھالۃ المحدثین لہ مشکوۃ المصابیح (1679)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ قَالَ كُنْتُ فِي سِكَّةِ الْمِرْبَدِ فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ مَعَہَا نَاسٌ كَثِيرٌ قَالُوا جَنَازَةُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَيْرٍ فَتَبِعْتُہَا فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ عَلَيْہِ كِسَاءٌ رَقِيقٌ عَلَی بُرَيْذِينَتِہِ وَعَلَی رَأْسِہِ خِرْقَةٌ تَقِيہِ مِنْ الشَّمْسِ فَقُلْتُ مَنْ ہَذَا الدِّہْقَانُ قَالُوا ہَذَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَلَمَّا وُضِعَتْ الْجَنَازَةُ قَامَ أَنَسٌ فَصَلَّی عَلَيْہَا وَأَنَا خَلْفَہُ لَا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَہُ شَيْءٌ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِہِ فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ لَمْ يُطِلْ وَلَمْ يُسْرِعْ ثُمَّ ذَہَبَ يَقْعُدُ فَقَالُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ الْمَرْأَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ فَقَرَّبُوہَا وَعَلَيْہَا نَعْشٌ أَخْضَرُ فَقَامَ عِنْدَ عَجِيزَتِہَا فَصَلَّی عَلَيْہَا نَحْوَ صَلَاتِہِ عَلَی الرَّجُلِ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ يَا أَبَا حَمْزَةَ ہَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُصَلِّي عَلَی الْجَنَازَةِ كَصَلَاتِكَ يُكَبِّرُ عَلَيْہَا أَرْبَعًا وَيَقُومُ عِنْدَ رَأْسِ الرَّجُلِ وَعَجِيزَةِ الْمَرْأَةِ قَالَ نَعَمْ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ نَعَمْ غَزَوْتُ مَعَہُ حُنَيْنًا فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ فَحَمَلُوا عَلَيْنَا حَتَّی رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُہُورِنَا وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا فَيَدُقُّنَا وَيَحْطِمُنَا فَہَزَمَہُمْ اللہُ وَجَعَلَ يُجَاءُ بِہِمْ فَيُبَايِعُونَہُ عَلَی الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ إِنَّ عَلَيَّ نَذْرًا إِنْ جَاءَ اللہُ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمَ يَحْطِمُنَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَہُ فَسَكَتَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَجِيءَ بِالرَّجُلِ فَلَمَّا رَأَی رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ تُبْتُ إِلَی اللہِ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَا يُبَايِعُہُ لِيَفِيَ الْآخَرُ بِنَذْرِہِ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَتَصَدَّی لِرَسُولِ اللہِ ﷺ لِيَأْمُرَہُ بِقَتْلِہِ وَجَعَلَ يَہَابُ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَنْ يَقْتُلَہُ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنَّہُ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا بَايَعَہُ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللہِ نَذْرِي فَقَالَ إِنِّي لَمْ أُمْسِكْ عَنْہُ مُنْذُ الْيَوْمَ إِلَّا لِتُوفِيَ بِنَذْرِكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ أَلَا أَوْمَضْتَ إِلَيَّ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِنَّہُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ قَالَ أَبُو غَالِبٍ فَسَأَلْتُ عَنْ صَنِيعِ أَنَسٍ فِي قِيَامِہِ عَلَی الْمَرْأَةِ عِنْدَ عَجِيزَتِہَا فَحَدَّثُونِي أَنَّہُ إِنَّمَا كَانَ لِأَنَّہُ لَمْ تَكُنْ النُّعُوشُ فَكَانَ الْإِمَامُ يَقُومُ حِيَالَ عَجِيزَتِہَا يَسْتُرُہَا مِنْ الْقَوْمِ قَالَ أَبُو دَاوُد قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ نُسِخَ مِنْ ہَذَا الْحَدِيثِ الْوَفَاءُ بِالنَّذْرِ فِي قَتْلِہِ بِقَوْلِہِ إِنِّي قَدْ تُبْتُ

سیدنا نافع ابوغالب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں (بصرہ میں) مربد محلہ کی ایک گلی میں تھا کہ ایک جنازہ گزرا،اس کے ساتھ بہت سے لوگ تھے۔لوگوں نے کہا: یہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ہے تو میں بھی اس کے ساتھ ہو لیا۔میں نے ایک آدمی دیکھا جو ایک باریک سی اونی چادر اوڑھے ہوئے اپنے چھوٹے سے گھوڑے پر سوار تھا،دھوپ سے بچاؤ کے لیے اس نے اپنے سر پر کپڑا رکھا ہوا تھا۔میں نے پوچھا یہ محترم بزرگ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ (صحابی رسول) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔چنانچہ جب میت کو رکھا گیا تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کا جنازہ پڑھایا،میں ان کے پیچھے تھا میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی۔آپ اس میت کے سر کے مقابل کھڑے ہوئے اور چار تکبیریں کہیں۔آپ نے نماز میں طوالت کی،نہ جلدی۔پھر بیٹھنے لگے تو لوگوں نے کہا: اے ابوحمزہ! (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) یہ ایک انصاری خاتون (کا جنازہ) ہے اور وہ اسے قریب لائے اور میت کے اوپر سبز رنگ کا پردہ تھا۔(تابوت نما رکاوٹ جو عورت کی نعش پر رکھی جاتی ہے) تو آپ اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے اور جنازہ پڑھایا جیسے کہ مرد کا پڑھایا تھا پھر آپ بیٹھ گئے۔تو علاء بن زیاد نے پوچھا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی جنازہ پڑھایا کرتے تھے جیسے کہ آپ نے پڑھایا ہے کہ چار تکبیریں کہتے اور مرد کے لیے اس کے سر کے سامنے اور عورت کے لیے اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔پھر اس نے پوچھا: اے ابوحمزہ! کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں بھی شریک رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔میں آپ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا کہ مشرکین نکلے اور ہم پر حملہ کر دیا حتیٰ کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے دیکھا (ہم پسپا ہو گئے) اور ان مشرکین میں ایک آدمی تھا جو ہمیں کچلے جا رہا تھا اور اس نے ہمیں توڑ کے رکھ دیا تھا۔بالآخر اللہ تعالیٰ نے انہیں پسپا کر دیا۔اور پھر ان لوگوں کو لایا گیا اور وہ اسلام پر بیعت کرنے لگے۔اور نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے کہا تھا: مجھ پر یہ نذر ہے کہ اگر اللہ اس آدمی کو لے آیا جو آج ہمیں کچلتا رہا ہے تو میں بالضرور اس کی گردن اڑاؤں گا۔رسول اللہ ﷺ (یہ سن کر) خاموش رہے اور اس آدمی کو لے آیا گیا۔جب اس نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں اللہ کی طرف توبہ کرتا ہوں۔اور پھر آپ رکے رہے اور اس سے بیعت نہیں لی تاکہ وہ صحابی اپنی نذر پوری کر لے۔راوی کہتا ہے: اور وہ صحابی بھی رسول اللہ ﷺ کے سامنے آتا رہا تاکہ آپ ﷺ اسے اس شخص کو قتل کر دینے کا حکم ارشاد فرمائیں۔جب کہ وہ اپنے طور پر اس کو قتل کر دینے میں رسول اللہ ﷺ سے ہیبت میں تھا۔پس جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ صحابی کچھ نہیں کر رہا ہے تو آپ ﷺ نے اس سے بیعت لے لی۔پھر اس صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری نذر (کا کیا ہو گا؟) آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں تو اسی لیے رکا رہا کہ تو اپنی نذر پوری کر لے۔‘‘ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے آنکھ سے اشارہ کیوں نہ کر دیا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’کسی نبی کو لائق نہیں کہ آنکھ سے اشارہ کرے۔‘‘ ابوغالب کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے اس عمل کے متعلق دریافت کیا جو وہ عورت کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے تھے۔تو لوگوں نے کہا کہ (پہلے) یہ اس لیے ہوتا تھا کہ میت پر تابوت نہیں رکھا جاتا تھا تو امام عورت کی کمر کے مقابل کھڑا ہو جاتا تھا تاکہ اس کے لیے قوم سے پردہ بن جائے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان کہ ’’مجھے لوگوں کے ساتھ قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ ((لا إلہ إلا اللہ)) کہہ دیں۔‘‘ اس حدیث کی روشنی میں منسوخ ہے جس میں کہ قتل کی نذر پوری کر دینے کا بیان آیا ہے۔حالانکہ اس شخص نے کہہ دیا تھا کہ ’’میں توبہ کرتا ہوں۔‘‘