Sunan Abi Dawood Hadith 3230 (سنن أبي داود)
[3230]إسنادہ صحیح
أخرجہ النسائي (2050 وسندہ صحیح) وابن ماجہ (1568 وسندہ صحیح)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ السَّدُوسِيِّ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَہِيكٍ عَنْ بَشِيرٍ مَوْلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ وَكَانَ اسْمُہُ فِي الْجَاہِلِيَّةِ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ فَہَاجَرَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ مَا اسْمُكَ قَالَ زَحْمٌ قَالَ بَلْ أَنْتَ بَشِيرٌ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللہِ ﷺ مَرَّ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَقَدْ سَبَقَ ہَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَرَّ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ لَقَدْ أَدْرَكَ ہَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا وَحَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ نَظْرَةٌ فَإِذَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي الْقُبُورِ عَلَيْہِ نَعْلَانِ فَقَالَ يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ وَيْحَكَ أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ فَنَظَرَ الرَّجُلُ فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولَ اللہِ ﷺ خَلَعَہُمَا فَرَمَی بِہِمَا
سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے غلام تھے،ایام جاہلیت میں ان کا نام زحم بن معبد تھا۔یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کر آئے تھے۔آپ ﷺ نے پوچھا (تمہارا نام کیا ہے؟) کہا: زحم۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’(نہیں) بلکہ تم بشیر ہو۔‘‘ یہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ ﷺ مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا ’’بیشک یہ لوگ بہت بڑی خیر سے پہلے ہی گزر گئے (اسلام لانے سے محروم رہے)۔‘‘ آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی،پھر آپ ﷺ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے،تو فرمایا ’’بلاشبہ ان لوگوں نے بہت بڑی خیر پا لی (اسلام سے بہرہ ور ہوئے)۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ کی نظر پڑی تو دیکھا کہ ایک آدمی جوتے پہنے ہوئے قبروں پر چلا آ رہا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے جوتوں والے! افسوس ہے تم پر،اپنے جوتے اتار دو۔‘‘ اس آدمی نے دیکھا،جب پہچانا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں تو اس نے اپنے جوتے اتار کر پھینک دیے۔