Sunan Abi Dawood Hadith 3243 (سنن أبي داود)

[3243]صحیح

صحیح بخاری (2416، 2417) صحیح مسلم (138)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی وَہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ الْمَعْنَی قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ ہُوَ فِيہَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِہَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللہَ وَہُوَ عَلَيْہِ غَضْبَانُ فَقَالَ الْأَشْعَثُ فِيَّ وَاللہِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَہُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُہُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ ﷺ أَلَكَ بَيِّنَةٌ قُلْتُ لَا قَالَ لِلْيَہُودِيِّ احْلِفْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْہَبُ بِمَالِي فَأَنْزَلَ اللہُ تَعَالَی إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللہِ وَأَيْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ

سیدنا عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس نے قسم کھائی اور وہ اس میں جھوٹا ہو تاکہ اس کے ذریعے سے کسی مسلمان کا مال مار لے،تو وہ اللہ سے ملے گا جب کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔‘‘ اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ حدیث میرے ہی بارے میں ہے۔میری اور ایک یہودی کی زمین مشترک تھی،وہ میرے حصے سے انکاری ہو گیا تو میں نے یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کے حضور پیش کیا۔آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا ’’کیا تمہارے گواہ ہیں؟‘‘ میں نے کہا: نہیں۔تو آپ ﷺ نے یہودی سے فرمایا ’’قسم اٹھاؤ۔‘‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو قسم اٹھا لے گا اور میرا مال مار لے گا۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔((إن الذین یشترون بعہد اللہ وأیمانہم ثمنا قلیلا)) ’’جو لوگ اللہ کے عمد اور اپنی قسموں پر معمولی مال حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں،اللہ ان کی طرف نظر نہیں فرمائے گا اور نہ ان سے کلام کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔“