Sunan Abi Dawood Hadith 3244 (سنن أبي داود)
[3244]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (3776)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فِي أَرْضٍ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيہَا أَبُو ہَذَا وَہِيَ فِي يَدِہِ قَالَ ہَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ قَالَ لَا وَلَكِنْ أُحَلِّفُہُ وَاللہُ يَعْلَمُ أَنَّہَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيہَا أَبُوہُ فَتَہَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَا يَقْتَطِعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِينٍ إِلَّا لَقِيَ اللہَ وَہُوَ أَجْذَمُ فَقَالَ الْكِنْدِيُّ ہِيَ أَرْضُہُ
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (قبیلہ کندہ) کندہ اور حضر موت کے دو آدمی اپنی ایک زمین کا تنازع لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ زمین یمن میں تھی۔حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری زمین اس شخص کے باپ نے مجھ سے زبردستی چھین لی تھی اور یہ اب اس کے قبضے میں ہے۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا تمہارے کوئی گواہ ہیں؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔لیکن میں اسے قسم دیتا ہوں کہ (وہ یہ کہے) اللہ کی قسم! وہ نہیں جانتا کہ وہ زمین میری ہے جو اس کے باپ نے مجھ سے زبردستی چھین لی تھی۔ادھر کندی آدمی بھی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو کوئی قسم اٹھا کر کسی کا مال مار لیتا ہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ کوڑھی ہو گا۔‘‘ چنانچہ کندی نے کہا: یہ زمین اسی کی ہے۔