Sunan Abi Dawood Hadith 3245 (سنن أبي داود)
[3245]صحیح
صحیح مسلم (139)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيہِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللہِ ﷺ إِنَّ ہَذَا غَلَبَنِي عَلَی أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي فَقَالَ الْكِنْدِيُّ ہِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُہَا لَيْسَ لَہُ فِيہَا حَقٌّ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِلْحَضْرَمِيِّ أَلَكَ بَيِّنَةٌ قَالَ لَا قَالَ فَلَكَ يَمِينُہُ قَالَ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّہُ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْہِ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَيْسَ لَكَ مِنْہُ إِلَّا ذَاكَ فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَہُ فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَی مَالٍ لِيَأْكُلَہُ ظَالِمًا لَيَلْقَيَنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ عَنْہُ مُعْرِضٌ
جناب علقمہ بن وائل بن حجر حضری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضر موت اور (قبیلہ کندہ) کندہ کے دو آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ شخص میرے باپ کی زمین پر قابض ہو گیا ہے۔کندی نے کہا: یہ میری زمین ہے،میرے قبضے میں ہے،میں ہی اسے کاشت کرتا ہوں اور اس کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔نبی کریم ﷺ نے حضرمی سے کہا: ’’کیا تیرے پاس گواہ ہیں؟ ’’اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو تمہیں اس کی قسم قبول کرنی ہو گی۔‘‘ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ فاجر آدمی ہے،اسے کوئی پروا نہیں کہ کیا قسم کھا رہا ہے،یہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا،تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’تمہارے لیے اس کی طرف سے بس یہی ہے ’’کہ وہ قسم کھائے۔‘‘ چنانچہ وہ قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا۔جب اس نے پشت پھیری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اگر اس نے قسم کھا لی کہ ظلم سے مال کھا لے تو یہ اللہ سے ملے گا اس حال میں کہ وہ اس سے رخ پھیرے ہوئے ہو گا۔‘‘