Sunan Abi Dawood Hadith 3270 (سنن أبي داود)
[3270]صحیح
صحیح بخاری (6140) صحیح مسلم (2057)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ ہِشَامٍ،حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ،عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَوْ،عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْہُ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ،قَالَ: نَزَلَ بِنَا أَضْيَافٌ لَنَا،قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ بِاللَّيْلِ،فَقَالَ: لَا أَرْجِعَنَّ إِلَيْكَ حَتَّی تَفْرُغَ مِنْ ضِيَافَةِ ہَؤُلَاءِ،وَمِنْ قِرَاہُمْ،فَأَتَاہُمْ بِقِرَاہُمْ،فَقَالُوا: لَا نَطْعَمُہُ حَتَّی يَأْتِيَ أَبُو بَكْرٍ،فَجَاءَ فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَضْيَافُكُمْ،أَفَرَغْتُمْ مِنْ قِرَاہُمْ؟ قَالُوا: لَا،قُلْتُ: قَدْ أَتَيْتُہُمْ بِقِرَاہُمْ،فَأَبَوْا،وَقَالُوا: وَاللہِ لَا نَطْعَمُہُ حَتَّی يَجِيءَ،فَقَالُوا: صَدَقَ،قَدْ أَتَانَا بِہِ فَأَبَيْنَا حَتَّی تَجِيءَ،قَالَ: فَمَا مَنَعَكُمْ،قَالُوا: مَكَانَكَ،قَالَ: وَاللہِ لَا أَطْعَمُہُ اللَّيْلَةَ،قَالَ: فَقَالُوا: وَنَحْنُ وَاللہِ لَا نَطْعَمُہُ حَتَّی تَطْعَمَہُ،قَالَ: مَا رَأَيْتُ فِي الشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ قَطُّ،قَالَ: قَرِّبُوا طَعَامَكُمْ قَالَ: فَقَرَّبَ طَعَامَہُمْ،فَقَالَ: بِسْمِ اللہِ،فَطَعِمَ وَطَعِمُوا،فَأُخْبِرْتُ أَنَّہُ أَصْبَحَ فَغَدَا عَلَی النَّبِيِّ ﷺ فَأَخْبَرَہُ بِالَّذِي صَنَعَ وَصَنَعُوا،قَالَ: بَلْ أَنْتَ أَبَرُّہُمْ وَأَصْدَقُہُمْ.
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں کچھ مہمان آ گئے ‘ جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رات کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو جایا کرتے تھے۔تو انہوں نے کہا کہ میرے آنے تک تم ان کی ضیافت اور خدمت سے فارغ ہو جانا۔چنانچہ میں ان کے پاس ان کے ضیافت لے کر آیا تو انہوں نے کہا: ہم نہیں کھائیں گے حتیٰ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آ جائیں۔چنانچہ وہ (دیر سے) آئے اور پوچھا کہ تمہارے مہمانوں کا کیا ہوا ‘ کیا تم ان کی مہمانداری سے فارغ ہو چکے ہو؟ گھر والوں نے کہا: نہیں۔میں نے عرض کیا کہ میں ان کے پاس ان کی ضیافت لے گیا تھا مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا: اللہ کی قسم! ہم نہیں کھائیں گے حتیٰ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آ جائیں۔ان مہمانوں نے بھی تصدیق کی کہ یہ ہمارے پاس ضیافت لایا تھا مگر ہم نے انکار کر دیا حتیٰ کہ آپ آ جائیں۔ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہیں (میرے بغیر) کھانے سے کیا مانع رہا؟ انہوں نے کہا: آپ کے باعث۔(آپ کی عدم موجودگی)۔تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں آج رات یہ نہیں کھاؤں گا۔تو انہوں نے کہا: اور ہم بھی اللہ کی قسم! نہیں کھائیں گے حتیٰ کہ آپ کھائیں۔ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آج جیسی بری رات میں نے نہیں دیکھی اور فرمایا کھانا لاؤ۔چنانچہ ان کا کھانا پیش کیا گیا تو کہا:((بسم اللہ))۔اور کھانے لگے اور مہمانوں نے بھی کھایا۔(عبدالرحمٰن کہتے ہیں) مجھے بتایا گیا کہ صبح کے وقت وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ سب آپ ﷺ کے گوش گزار کیا جو کچھ انہوں (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے کیا اور مہمانوں نے کیا۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’تم ان سے بڑھ کر صالح ہو اور سچے بھی۔(کہ مہمانوں کے اکرام میں ان کی قسم کے مطابق کھانا کھا لیا)۔‘‘