Sunan Abi Dawood Hadith 3288 (سنن أبي داود)

[3288]صحیح

صحیح بخاری (6694) صحیح مسلم (1640)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ قُرِئَ عَلَی الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاہِدٌ أَخْبَرَكُمْ ابْنُ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہُرْمُزَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ الْقَدَرَ بِشَيْءٍ لَمْ أَكُنْ قَدَّرْتُہُ لَہُ وَلَكِنْ يُلْقِيہِ النَّذْرُ الْقَدَرَ قَدَّرْتُہُ يُسْتَخْرَجُ مِنْ الْبَخِيلِ يُؤْتِي عَلَيْہِ مَا لَمْ يَكُنْ يُؤْتِي مِنْ قَبْلُ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’(اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) نذر ابن آدم کی تقدیر میں ‘ جسے میں نے پہلے سے مقدر نہ کیا ہو ‘ کوئی تبدیلی نہیں لاتی ‘ بلکہ یہ تقدیر ہی میں سے ہوتا ہے کہ انسان نذر مان لیتا ہے جس کے ذریعے سے بخیل سے کچھ نکالا جاتا ہے اور وہ کچھ کروایا جاتا ہے جو وہ اس سے پہلے نہیں کر رہا ہوتا۔‘‘