Sunan Abi Dawood Hadith 3308 (سنن أبي داود)
[3308]صحیح
رواہ النسائي (3847 وسندہ صحیح) ولہ شواھد عند أحمد (1/338 وسندہ صحیح) وغیرہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ،أَخْبَرَنَا ہُشَيْمٌ،عَنْ أَبِي بِشْرٍ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،أَنَّ امْرَأَةً رَكِبَتِ الْبَحْرَ،فَنَذَرَتْ: إِنْ نَجَّاہَا اللہُ أَنْ تَصُومَ شَہْرًا،فَنَجَّاہَا اللہُ،فَلَمْ تَصُمْ،حَتَّی مَاتَتْ فَجَاءَتِ ابْنَتُہَا-أَوْ أُخْتُہَا-إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَأَمَرَہَا أَنْ تَصُومَ عَنْہَا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت سمندری سفر میں گئی تو اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی۔چنانچہ اللہ نے اسے نجات دے دی ‘ مگر اس نے روزے نہ رکھے حتیٰ کہ مر گئی۔پس اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی تو آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھ لے۔