Sunan Abi Dawood Hadith 3321 (سنن أبي داود)
[3321]حسن
انظر الحدیث السابق (3317)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی،حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ،حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ،قَالَ: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ،حَدَّثَنِي الزُّہْرِيُّ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ كَعْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ فِي قِصَّتِہِ،قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَی اللہِ, أَنْ أَخْرُجَ مِنْ مَالِي كُلِّہِ إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ صَدَقَةً؟ قَالَ: لَا،قُلْتُ: فَنِصْفُہُ؟ قَالَ: لَا قُلْتُ: فَثُلُثُہُ؟،قَالَ: نَعَمْ،قُلْتُ: فَإِنِّي سَأُمْسِكُ سَہْمِي مِنْ خَيْبَرَ.
جناب عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب اپنے والد سے وہ دادا اسے اپنے قصے میں روایت کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ کا اللہ کے لیے شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا سب مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں۔‘‘ میں نے کہا: آدھا مال۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں۔‘‘ میں نے عرض کیا: تہائی مال۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں۔‘‘ تو میں نے کہا: میں اپنا خیبر والا حصہ رکھ لیتا ہوں۔