Sunan Abi Dawood Hadith 3328 (سنن أبي داود)

[3328]حسن

أخرجہ ابن ماجہ (2406 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَہُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ فَقَالَ وَاللہِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّی تَقْضِيَنِي أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ فَتَحَمَّلَ بِہَا النَّبِيُّ ﷺ فَأَتَاہُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَہُ فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ ہَذَا الذَّہَبَ قَالَ مِنْ مَعْدِنٍ قَالَ لَا حَاجَةَ لَنَا فِيہَا وَلَيْسَ فِيہَا خَيْرٌ فَقَضَاہَا عَنْہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص اپنے مقروض کے ساتھ چمٹ گیا جس نے اس کے دس دینار دینے تھے۔اس نے کہا: اللہ کی قسم! جب تک تو مجھے دے نہیں دیتا میں تجھے ہرگز نہیں چھوڑوں گا،سوائے اس کے کہ تو کوئی ضامن یا کفیل لے آئے۔تو نبی کریم ﷺ نے وہ اپنے ذمے لے لیے۔پھر وہ آدمی حسب وعدہ مال لے کر آیا تو نبی کریم ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا ’’تمہیں یہ سونا کہاں سے مل گیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ایک کان سے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہمیں اس کی ضرورت نہیں (اور) اس میں خیر نہیں۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف سے قرض ادا فرما دیا۔