Sunan Abi Dawood Hadith 3329 (سنن أبي داود)

[3329]صحیح

صحیح بخاری (2051) صحیح مسلم (1599)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،قَالَ:،حَدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ،قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ-وَلَا أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَہُ-يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ،وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ،وَبَيْنَہُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِہَاتٌ-وَأَحْيَانًا يَقُولُ: مُشْتَبِہَةٌ-،وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلًا: إِنَّ اللہَ حَمَی حِمًی،وَإِنَّ حِمَی اللہِ مَا حَرَّمَ, وَإِنَّہُ مَنْ يَرْعَی حَوْلَ الْحِمَی يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَہُ, وَإِنَّہُ مَنْ يُخَالِطُ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ.

جناب شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان کے بعد کسی اور سے سننے کی مجھے کوئی حاجت نہیں (کیونکہ وہ ایک سچے صحابی تھے) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا،آپ ﷺ فرماتے تھے ’’بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے مابین کئی امور شبہے والے ہیں۔میں تمہیں اس کی بابت مثال بیان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کی ایک چراگاہ ہے (محفوظ مخصوص علاقہ جسے رکھ یا محفوظہ کہا جاتا ہے) اور اللہ کی رکھ اور اس کا محفوظہ وہی ہے جو اس نے حرام کیا ہے،جو شخص اس محفوظ علاقے کے قریب اپنے جانور چرائے گا قریب ہے کہ وہ اس میں جا پڑے۔اور جو شک والی باتوں میں پڑتا ہے قریب ہے کہ وہ ان میں (بے دھڑک) جرات کرنے لگے۔‘‘