Sunan Abi Dawood Hadith 3341 (سنن أبي داود)
[3341] إسنادہ ضعیف
نسائی (4689)
قال البخاري:’’لا نعرف لسمعان سماعًا من سمرۃ ولاللشعبي سماعًا منہ‘‘ (التاریخ الکبیر 204/4)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ سَمْعَانَ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ ہَاہُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ فَلَمْ يُجِبْہُ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ ہَاہُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ فَلَمْ يُجِبْہُ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ ہَاہُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللہِ فَقَالَ ﷺ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّہْ بِكُمْ إِلَّا خَيْرًا إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَأْسُورٌ بِدَيْنِہِ فَلَقَدْ رَأَيْتُہُ أَدَّی عَنْہُ حَتَّی مَا بَقِيَ أَحَدٌ يَطْلُبُہُ بِشَيْءٍ قَالَ أَبُو دَاوُد سَمْعَانُ بْنُ مُشَنِّجٍ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور پوچھا: ’’کیا بنی فلاں میں سے کوئی یہاں ہے؟‘‘ مگر کسی نے جواب نہ دیا۔آپ ﷺ نے دوبارہ پوچھا: ’’کیا بنی فلاں میں سے کوئی یہاں ہے؟‘‘ لیکن کسی نے جواب نہ دیا۔آپ ﷺ نے سہ بارہ پوچھا: ’’کیا بنی فلاں میں سے کوئی یہاں ہے؟‘‘ تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: میں ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا ’’تجھے کیا مانع ہوا تھا کہ پہلی اور دوسری بار جواب نہیں دیا تھا؟ بلاشبہ میں نے تمہارے لیے خیر ہی کا ارادہ کیا ہے۔تمہارا ساتھی اپنے قرضے میں پکڑا ہوا ہے۔‘‘ (سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) پھر میں نے اس شخص کو دیکھا کہ اس نے اس (مقروض) کی طرف سے سب ادا کر دیا حتیٰ کہ کوئی مطالبہ کرنے والا باقی نہ رہا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (شعبی کے شیخ کا نام) سمعان بن مشنج ہے۔