Sunan Abi Dawood Hadith 3343 (سنن أبي داود)

[3343]صحیح

وللحدیث شواھد عند أحمد (3/330) والحاکم (2/57، 58) وغیرھما، انظر الحدیث السابق (2954)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ جَابِرٍ،قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَا يُصَلِّي عَلَی رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْہِ دَيْنٌ،فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ،فَقَالَ: أَعَلَيْہِ دَيْنٌ؟،قَالُوا: نَعَمْ, دِينَارَانِ،قَالَ: صَلُّوا عَلَی صَاحِبِكُمْ،فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ: ہُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللہِ! قَالَ: فَصَلَّی عَلَيْہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَلَمَّا فَتَحَ اللہُ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ, قَالَ: أَنَا أَوْلَی بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ،فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ قَضَاؤُہُ،وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی ایسے آدمی کا جنازہ نہ پڑھایا کرتے تھے جس پر قرضہ باقی ہوتا،ایک میت کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا اس پر قرضہ ہے؟‘‘ صحابہ نے کہا: ہاں دو دینار ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم لوگ اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔‘‘ پھر سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ میرے ذمے ہے،تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھایا۔پھر جب اللہ نے اپنے رسول کے لیے فتوحات کا دروازہ کھول دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں ہر مومن کے لیے اس کی جان سے قریب تر ہوں۔سو جس نے کوئی قرضہ چھوڑا اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا ہو تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔‘‘