Sunan Abi Dawood Hadith 3351 (سنن أبي داود)
[3351]صحیح
صحیح مسلم (1591)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ حَنَشٍ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ عَامَ خَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيہَا ذَہَبٌ وَخَرَزٌ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَابْنُ مَنِيعٍ فِيہَا خَرَزٌ مُعَلَّقَةٌ بِذَہَبٍ ابْتَاعَہَا رَجُلٌ بِتِسْعَةِ دَنَانِيرَ أَوْ بِسَبْعَةِ دَنَانِيرَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَا حَتَّی تُمَيِّزَ بَيْنَہُ وَبَيْنَہُ فَقَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَا حَتَّی تُمَيِّزَ بَيْنَہُمَا قَالَ فَرَدَّہُ حَتَّی مُيِّزَ بَيْنَہُمَا و قَالَ ابْنُ عِيسَی أَرَدْتُ التِّجَارَةَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَكَانَ فِي كِتَابِہِ الْحِجَارَةُ فَغَيَّرَہُ فَقَالَ التِّجَارَةُ
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے سال نبی کریم ﷺ کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں سونا اور نگینے تھے۔ابوبکر اور ابن منیع نے کہا: سونے سے لٹکے ہوئے نگینے تھے ‘ تو ایک آدمی نے اسے نو یا سات دینار میں خرید لیا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’نہیں (یہ خرید و فروخت درست نہیں) حتیٰ کہ تو ان نگینوں اور سونے کو جدا جدا کر لے۔‘‘ اس آدمی نے کہا: میں نے صرف قیمتی پتھر لینے چاہے ہیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’نہیں ‘ جب تک تو ان کو جدا جدا نہ کر لے۔‘‘ چنانچہ اس نے اسے واپس کر دیا حتیٰ کہ انہیں جدا جدا کیا گیا۔ابن عیسیٰ کے لفظ تھے ((أردت الحجارۃ)) ’’میں نے تجارت کا ارادہ کیا ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی اصل کتاب میں لفظ ((حجارۃ)) ہی تھا مگر اسے ((تجارۃ)) سے بدل دیا۔