Sunan Abi Dawood Hadith 3354 (سنن أبي داود)

[3354]إسنادہ حسن

أخرجہ الترمذي (1242 وسندہ حسن) والنسائي (4586 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (2871)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ الْمَعْنَی وَاحِدٌ،قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ،عَنْ سَعِيدِ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ،قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ،فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاہِمَ،وَأَبِيعُ بِالدَّرَاہِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ،آخُذُ ہَذِہِ مِنْ ہَذِہِ،وَأُعْطِي ہَذِہِ مِنْ ہَذِہِ،فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ وَہُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ: إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ،فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ،وَآخُذُ الدَّرَاہِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاہِمِ،وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ, آخُذُ ہَذِہِ مِنْ ہَذِہِ،وَأُعْطِي ہَذِہِ مِنْ ہَذِہِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَہَا بِسِعْرِ يَوْمِہَا, مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ‘ وہ کہتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا ‘ تو ایسے ہوتا تھا کہ دیناروں میں سودا کرتا اور درہم وصول کرتا یا درہموں میں سودا کرتا اور دینار وصول کرتا ‘ انہیں ایک دوسرے کے بدلے میں لے لیا کرتا یا دے دیا کرتا تھا۔پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ ﷺ ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے ‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ذرا ٹھہریے مجھے آپ سے ایک سوال کرنا ہے ‘ میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں تو دیناروں سے سودا کر کے درہم وصول کر لیتا ہوں یا درہموں سے سودا کر کے دینار لے لیتا ہوں۔انہیں ایک دوسرے کے بدلے لیتا بھی ہوں اور دیتا بھی ہوں ‘ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’کوئی حرج نہیں اگر تم اسی دن کے نرخ سے لو اور تمہارے جدا ہونے پر تم میں کوئی چیز باقی نہ ہو۔‘‘ (حساب اس وقت بالکل بے باق ہو جائے)۔