Sunan Abi Dawood Hadith 3391 (سنن أبي داود)
[3391] إسنادہ ضعیف
نسائی (3925)
محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي لبیبۃ ضعفہ الجمھور و قال الحافظ ابن حجر: ضعیف کثیر الإرسال (تقریب: 4080)
وحدیث رافع بن خدیج (الأصل: 3395) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدٍ قَالَ كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ بِمَا عَلَی السَّوَاقِي مِنْ الزَّرْعِ وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِنْہَا فَنَہَانَا رَسُولُ اللہِ ﷺ عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نُكْرِيَہَا بِذَہَبٍ أَوْ فِضَّةٍ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم اپنی زمینیں کرائے (بٹائی) پر دیا کرتے تھے اور ساتھ ہی یہ طے ہوتا تھا کہ جو کچھ نالیوں پر پیدا ہو گا یا جس حصے کو از خود پانی پہنچتا ہو (تو وہ مالک کا ہو گا) رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا۔اور حکم دیا کہ ہم اپنی زمین سونے یا چاندی (کرنسی) کے بدلے کرایہ پر دیں (یعنی متعین رقم پر ٹھیکہ کر لیا کریں)۔