Sunan Abi Dawood Hadith 3392 (سنن أبي داود)

[3392]صحیح

صحیح بخاری (2346، 2347) صحیح مسلم (1547 بعد ح1548)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ كِلَاہُمَا عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاللَّفْظُ لِلْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِہَا إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ بِمَا عَلَی الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَاءَ مِنْ الزَّرْعِ فَيَہْلَكُ ہَذَا وَيَسْلَمُ ہَذَا وَيَسْلَمُ ہَذَا وَيَہْلَكُ ہَذَا وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا ہَذَا فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْہُ فَأَمَّا شَيْءٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ فَلَا بَأْسَ بِہِ وَحَدِيثُ إِبْرَاہِيمَ أَتَمُّ و قَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ رَافِعٍ قَالَ أَبُو دَاوُد رِوَايَةُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ نَحْوَہُ

جناب حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ زمین کو سونے چاندی (نقدی) کے عوض کرایہ پر دینا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔دراصل لوگ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اس طرح کرتے تھے کہ جو کچھ پانی کے بہاؤ پر اور نالوں کے سروں پر ہوتا اس پر اور کچھ کھیتی پر معاملہ طے کرتے تھے۔تو پھر ایسے ہوتا کہ یہ ضائع ہو جاتی اور وہ بچ رہتی یا وہ ضائع ہو جاتی اور یہ بچ رہتی ‘ لوگوں کو کرائے پر دینے کی بس یہی ایک صورت رائج تھی۔جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے اس معاملے سے ڈانٹ کر روک دیا۔لیکن وہ عوض اور بدل جو معلوم و متعین ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ابراہیم کی حدیث (جو اوپر ذکر ہوئی) اس سے زیادہ کامل ہے۔اور قتیبہ نے اپنی سند میں ((عن حنظلۃ،عن رافع)) کہا ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے حنظلہ سے اس کے مثل روایت کیا ہے۔