Sunan Abi Dawood Hadith 3394 (سنن أبي داود)
[3394]صحیح
صحیح بخاری (2345) صحیح مسلم (1547)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي اللَّيْثِ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَكْرِي أَرْضَہُ حَتَّی بَلَغَہُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يَنْہَی عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَلَقِيَہُ عَبْدُ اللہِ فَقَالَ يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَہِدَا بَدْرًا يُحَدِّثَانِ أَہْلَ الدَّارِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ نَہَی عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ عَبْدُ اللہِ وَاللہِ لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَی ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللہِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَہُ فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاہُ أَيُّوبُ وَعُبَيْدُ اللہِ وَكَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَمَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ رَافِعٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَرَوَاہُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَفْصِ بْنِ عِنَانٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ رَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ وَكَذَلِكَ رَوَاہُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ أَتَی رَافِعًا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَ نَعَمْ وَكَذَا قَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ عَلَيْہِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ وَرَوَاہُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ عَمِّہِ ظُہَيْرِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ أَبُو دَاوُد أَبُو النَّجَاشِيِّ عَطَاءُ بْنُ صُہَيْبٍ
جناب سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ زمین کرائے (بٹائی) پر دیا کرتے تھے حتیٰ کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا کرتے تھے۔تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ملاقات کی اور پوچھا کہ تم زمین کو بٹائی پر دینے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا کیا فرمان بیان کرتے ہو؟ تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے اپنے دو چچوں سے سنا جو بدر میں شریک ہوئے تھے ‘ وہ گھر والوں سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے (بٹائی) پر دینے سے منع کیا ہے۔تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اﷲ کی قسم! مجھے تو رسول اللہ ﷺ کے دور کے متعلق یہی معلوم ہے کہ اس دور میں زمین بٹائی پر دی جاتی تھی۔مگر پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں (بعد میں) کوئی نئی بات نہ فرما دی ہو جس کا انہیں علم نہ ہو سکا ہو۔چنانچہ اس بنا پر انہوں نے زمین بٹائی پر دینا ترک کر دی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو ایوب،عبیداللہ ‘ کثیر بن فرقد اور مالک رحمہ اللہ نے بواسطہ نافع پھر رافع اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا ہے۔اور اوزاعی نے بواسطہ حفص بن عنان حنفی ‘ نافع سے ‘ انہوں نے رافع سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔اور ایسے ہی زید بن ابی انیسہ نے بواسطہ حکم ‘ نافع سے ‘ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رافع کے پاس ہوئے اور پوچھا کہ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔اور ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابوالنجاشی سے ‘ انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔نیز اوزاعی نے ابوالنجاشی سے روایت کیا ‘ انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے ‘ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوالنجاشی کا نام عطاء بن صہیب ہے۔