Sunan Abi Dawood Hadith 3395 (سنن أبي داود)
[3395]صحیح
صحیح مسلم (1548)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ،حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ،حَدَّثَنَا سَعِيدٌ،عَنْ يَعْلَی بْنِ حَكِيمٍ،عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ،أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا نُخَابِرُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَذَكَرَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِہِ أَتَاہُ،فَقَالَ: نَہَی رَسُولُ اللہِ ﷺ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا،وَطَوَاعِيَةُ اللہِ وَرَسُولِہِ أَنْفَعُ لَنَا،وَأَنْفَعُ،قَالَ: قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَنْ كَانَتْ لَہُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْہَا أَوْ فَلْيُزْرِعْہَا أَخَاہُ،وَلَا يُكَارِيہَا بِثُلُثٍ،وَلَا بِرُبُعٍ،وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّی.
جناب سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے دور میں زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے۔تو ان کے ایک چچا ان کے پاس آئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس معاملے سے جو ہمارے لیے نفع آور تھا منع فرما دیا ہے اور اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی ہمارے لیے نفع آور اور سود مند ہے۔ہم نے پوچھا: اور وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’جس کے پاس زمین ہو تو چاہیئے کہ خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشت کے لیے دیدے ‘ لیکن تہائی یا چوتھائی یا متعین غلے پر بٹائی پر نہ دے۔‘‘