Sunan Abi Dawood Hadith 3410 (سنن أبي داود)

[3410]إسنادہ حسن

أخرجہ ابن ماجہ (1820 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ،حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ،حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ،عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ،عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: افْتَتَحَ رَسُولُ اللہِ ﷺ خَيْبَرَ،وَاشْتَرَطَ أَنَّ لَہُ الْأَرْضَ،وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ،قَالَ أَہْلُ خَيْبَرَ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ مِنْكُمْ،فَأَعْطِنَاہَا عَلَی أَنَّ لَكُمْ نِصْفَ الثَّمَرَةِ،وَلَنَا نِصْفٌ،فَزَعَمَ أَنَّہُ أَعْطَاہُمْ عَلَی ذَلِكَ،فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ،بَعَثَ إِلَيْہِمْ عَبْدَ اللہِ بْنَ رَوَاحَةَ،فَحَزَرَ عَلَيْہِمُ النَّخْلَ-وَہُوَ الَّذِي يُسَمِّيہِ أَہْلُ الْمَدِينَةِ: الْخَرْصَ-،فَقَالَ: فِي ذِہْ كَذَا وَكَذَا،قَالُوا: أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ! فَقَالَ: فَأَنَا أَلِي حَزْرَ النَّخْلِ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ!! قَالُوا: ہَذَا الْحَقُّ،وَبِہِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَہُ بِالَّذِي قُلْتَ.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب خیبر فتح کر لیا اور شرط کی کہ مسلمان اس کی زمین اور اس کے سونے چاندی کے مالک ہیں۔تو خیبر والوں نے کہا کہ ہم آپ کی نسبت زمین کے زیادہ ماہر ہیں۔آپ یہ ہمیں دے دیں اور شرط یہ رہی کہ آدھا ہم آپ کو دیں گے اور آدھا خود رکھیں گے۔چنانچہ آپ نے اس شرط پر زمین انہیں دے دی پھر جب پھل چننے کا موسم آیا تو آپ نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا جو کھجوروں کے پھل کا اندازہ لگا کر آئے اور اس عمل کو اہل مدینہ ((خرص)) ’’اندازہ لگانا‘‘ کہتے ہیں۔سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ فلاں باغ میں اس قدر ہے اور فلاں میں اس قدر۔تو انہوں نے کہا: اے ابن رواحہ! تو نے ہم پر زیادہ لگا دیا ہے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ان پھلوں کا جو اندازہ لگایا ہے،اس کا میں ذمے دار ہوں،میں اس کا نصف تمہیں دیتا ہوں۔یہودیوں نے کہا: یہی وہ حق (اور عدل) ہے جس سے آسمان و زمین قائم ہیں جو آپ نے کہا ہم اس کے لینے پر راضی ہیں۔