Sunan Abi Dawood Hadith 3416 (سنن أبي داود)

[3416]إسنادہ حسن

أخرجہ ابن ماجہ (2157 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (2990)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

-حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّوَاسِيُّ،عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَہْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ،فَأَہْدَی إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَوْسًا،فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ،وَأَرْمِي عَنْہَا فِي سَبِيلِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ،لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَلَأَسْأَلَنَّہُ! فَأَتَيْتُہُ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! رَجُلٌ أَہْدَی إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُہُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ،وَلَيْسَتْ بِمَالٍ! وَأَرْمِي عَنْہَا فِي سَبِيلِ اللہِ؟ قَالَ: إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْہَا.

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،کہتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ کے کچھ افراد کو قرآن پڑھایا اور لکھنا سکھایا۔تو ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک قوس (کمان) ھدیتاً دی۔میں نے (دل میں) کہا: یہ کوئی اہم مال بھی نہیں ہے اور میں جہاد میں اس کے ذریعے سے تیر اندازی ہی کر سکتا ہوں،میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتا ہوں اور اس کے متعلق پوچھتا ہوں۔چنانچہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایک آدمی نے ایک کمان ہدیہ کی ہے جسے میں نے لکھنا سکھایا اور قرآن پڑھایا ہے۔اور یہ کوئی اہم مال بھی نہیں،میں اس کے ذریعے سے جہاد میں تیر اندازی ہی کر سکتا ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر تمہیں یہ پسند ہو کہ تمہیں آگ کا طوق پہنایا جائے،تو اسے قبول کر لو۔‘‘

قال معاذ علي زئي: قال أحمد بن حنبل في موضع: ’’كل حديثٍ رفعہ ‌مغيرة ‌بن ‌زياد فہو منكر‘‘ (العلل ومعرفة الرجال: 4012) قلتُ: واللہ أعلم بالصواب. وقد ذكر ابن حبان الحديث المذكور في منكرات المغيرة بن زياد الموصلي (المجروحين: 3/ 7) وأنكرہ ابن عبد البر وقال: ’’وہذہ الأحاديث منكرة،لا يصحّ شيءٌ منہا عند أہل العلم بالنقل...وأما المغيرة بن زياد،فمعروفٌ بحمل العلم،ولكن لہ مناكير،وہذا منہا‘‘ (التمہيد: 21/ 114،نسخة بشار: 13/ 275،وانظر الاستذكار: 5/ 417) وضعفہ الجورقاني وقال: ’’ہذا حديث باطل‘‘ (الأباطيل والمناكير: 2/ 164 ح 523) وضعفہ ابن الجوزي وقال: ہذا حديث لا يصح عن رسول اللہ ﷺ (العلل المتناہية: 1/ 75 ح 92) وقال البيہقي: ’’ويشبہ،إن كان شيءٌ من ہذا ثابتا،أن يكون منسوخًا بحديث ابن عباس،وبما رُوي في معناہ عن أبي سعيد الخدري،ويُستدل علی ذلك بذہاب عامة أہل العلم إلی ترك ظاہرہ،وبأن أبا سعيد وابن عباس إنما حملا الحديث في أواخر عہد النبي ﷺ،ويُشبہ أن يكون عبادة بن ‌الصامت حملہ في الابتداء،واللہ أعلم‘‘ (معرفة السنن والآثار: 14288)