Sunan Abi Dawood Hadith 3440 (سنن أبي داود)
[3440]صحیح
رواہ البخاري (2161) ومسلم (1523)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا زُہَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الزِّبْرِقَانِ أَبَا ہَمَّامٍ حَدَّثَہُمْ قَالَ زُہَيْرٌ وَكَانَ ثِقَةً،عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ،وَإِنْ كَانَ أَخَاہُ أَوْ أَبَاہُ. قَالَ أَبو دَاود: سَمِعْت حَفْصَ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ،حَدَّثَنَا أَبُو ہِلَالٍ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: كَانَ يُقَالُ: لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ،وَہِيَ كَلِمَةٌ جَامِعَةٌ،لَا يَبِيعُ لَہُ شَيْئًا وَلَا يَبْتَاعُ لَہُ شَيْئًا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے خرید و فروخت نہ کرے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حفص بن عمر سے سنا،انہوں نے کہا: ہمیں ابوہلال نے بیان کیا،انہوں نے کہا: ہم سے محمد (محمد ابن سیرین)،سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ ((لا یبیع حاضر لباد)) کا کلمہ جامع معنی رکھتا ہے۔یعنی شہری،دیہاتی کے لیے کوئی چیز بیچے،نہ کوئی چیز خریدے۔