Sunan Abi Dawood Hadith 3451 (سنن أبي داود)
[3451]إسنادہ صحیح
أخرجہ الترمذي (1314 وسندہ صحیح) وابن ماجہ (2200 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (2894)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَقَتَادَةُ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللہِ غَلَا السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ اللہَ ہُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَی اللہَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُطَالِبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نرخ بہت بڑھ گئے ہیں،لہٰذا آپ نرخ مقرر فرما دیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ اللہ عزوجل ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے،وہی تنگی کرنے والا،وسعت دینے والا،روزی رساں ہے۔اور مجھے یقین ہے کہ میں اللہ سے اس حال میں ملوں گا کہ تم میں سے کوئی بھی مجھ پر کسی خون یا مال کے معاملے میں کوئی مطالبہ نہ رکھتا ہو گا۔‘‘