Sunan Abi Dawood Hadith 3456 (سنن أبي داود)
[3456]حسن
ابن عجلان تابعہ بکیر بن عبد اللہ الأشج عند الدارقطني (3/50) وذکر السماع المسلسل مشکوۃ المصابیح (2804)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا،إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ،وَلَا يَحِلُّ لَہُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَہُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَہُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’دو بیع کرنے والوں کا جدا ہونے سے پہلے تک اختیار باقی رہتا ہے الا یہ کہ سودے میں اختیار طے کر لیا گیا ہو،اور کسی کے لیے بھی حلال نہیں کہ سودا واپس کر لیے جانے کے اندیشے کی وجہ سے ارادتاً اپنے ساتھی کو چھوڑ کر چلا جائے۔‘‘