Sunan Abi Dawood Hadith 3457 (سنن أبي داود)
[3457]إسنادہ صحیح
أخرجہ ابن ماجہ (2182 وسندہ صحیح)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ قَالَ غَزَوْنَا غَزْوَةً لَنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَبَاعَ صَاحِبٌ لَنَا فَرَسًا بِغُلَامٍ ثُمَّ أَقَامَا بَقِيَّةَ يَوْمِہِمَا وَلَيْلَتِہِمَا فَلَمَّا أَصْبَحَا مِنْ الْغَدِ حَضَرَ الرَّحِيلُ فَقَامَ إِلَی فَرَسِہِ يُسْرِجُہُ فَنَدِمَ فَأَتَی الرَّجُلَ وَأَخَذَہُ بِالْبَيْعِ فَأَبَی الرَّجُلُ أَنْ يَدْفَعَہُ إِلَيْہِ فَقَالَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَبُو بَرْزَةَ صَاحِبُ النَّبِيِّ ﷺ فَأَتَيَا أَبَا بَرْزَةَ فِي نَاحِيَةِ الْعَسْكَرِ فَقَالَا لَہُ ہَذِہِ الْقِصَّةَ فَقَالَ أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا قَالَ ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَ جَمِيلٌ أَنَّہُ قَالَ مَا أَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا
جناب ابوالوضی سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوے میں گئے تو ہم نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا۔ہمارے ایک ساتھی نے دوسرے کو غلام کے بدلے میں اپنا گھوڑا بیچا،پھر وہ دونوں باقی دن اور رات اکٹھے ہی رہے۔جب اگلا دن ہوا اور کوچ کا وقت آ گیا تو گھوڑے کا خریدار اپنے گھوڑے کی طرف اٹھا اور زین رکھ کر اسے تیار کرنے لگا تو بیچنے والے کو اپنے سودے پر ندامت ہوئی اور اس کے پاس آیا اور سودا منسوخ کرنے کی بات کرنے لگا،لیکن گھوڑا لینے والے نے واپس کرنے سے انکار کر دیا۔تو اس نے کہا کہ میرے اور تمہارے درمیان (حکم) سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے صحابی ہیں۔چنانچہ وہ دونوں لشکر کی ایک طرف سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور قصہ بیان کیا۔انہوں نے کہا: کیا تم راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان وہ فیصلہ کر دوں جو رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’دو سودا کرنے والے جب تک علیحدہ علیحدہ نہ ہو جائیں (سودا منسوخ کرنے کا) انہیں اختیار رہتا ہے۔‘‘ ہشام بن حسان نے کہا کہ جمیل (جمیل بن مرہ) نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ تم جدا جدا ہوئے ہو۔