Sunan Abi Dawood Hadith 3459 (سنن أبي داود)
[3459]صحیح
صحیح بخاری (2079) صحیح مسلم (1532)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ،عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا،فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا, بُورِكَ لَہُمَا فِي بَيْعِہِمَا،وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا, مُحِقَتِ الْبَرَكَةُ مِنْ بَيْعِہِمَا. قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاہُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَحَمَّادٌ وَأَمَّا ہَمَّامٌ فَقَالَ حَتَّی يَتَفَرَّقَا،أَوْ يَخْتَارَا ثَلَاثَ مِرَارٍ.
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بیع وشراء کرنے والے دونوں افراد کو جدا ہونے سے پہلے تک اختیار حاصل رہتا ہے۔اگر وہ سچ بولیں اور حقیقت کھول کر بیان کریں تو ان کی بیع میں برکت ہوتی ہے۔اور اگر وہ حقیقت چھپائیں اور جھوٹ بولیں تو ان کے سودے سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی عروبہ اور حماد نے (قتادہ سے) ایسے ہی روایت کیا ہے۔لیکن ہمام نے (قتادہ سے) روایت کرتے ہوئے کہا: ’’حتیٰ کہ دونوں جدا جدا ہو جائیں یا اختیار کرنے کی شرط کر لیں۔‘‘ یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔