Sunan Abi Dawood Hadith 3476 (سنن أبي داود)

[3476] إسنادہ ضعیف

انظر الحدیث السابق نحوہ (1669)

انوار الصحیفہ ص 124

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ،حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا كَہْمَسٌ،عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَہَا: بُہَيْسَةُ،عَنْ أَبِيہَا،قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ ﷺ،فَدَخَلَ بَيْنَہُ وَبَيْنَ قَمِيصِہِ،فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ،ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللہِ! مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: الْمَاءُ،قَالَ: يَا نَبِيَّ اللہِ! مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: الْمِلْحُ،قَالَ: يَا نَبِيَّ اللہِ! مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ: أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ.

بہیسہ نامی ایک خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہے کہ میرے والد نے نبی کریم ﷺ سے ملنے کی اجازت لی۔پھر وہ آپ ﷺ کی قمیص کے اندر سے ہو کر آپ ﷺ کو چمٹ گئے اور آپ ﷺ کو چومنے لگے۔پھر کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! کس چیز کا روکنا حلال نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’پانی کا۔‘‘ پھر کہا: اے اللہ کے نبی! کس چیز کا روکنا حلال نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نمک کا‘‘ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے نبی! کس چیز کا روک لینا حلال نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’بھلائی کرتے رہنے میں تمہارے لیے خیر ہے۔‘‘